حضرت اُمامہ بنتِ ابو العاص رضی اللہ عنہا
حضرت اُمامہ بنتِ ابوالعاصؓ، آنحضرتؐ کی محبوب نواسی تھیں۔ بعض اوقات اس فطری محبّت کی وجہ سے آنحضرتؐ اُنھیں، جب وہ بہت چھوٹی تھیں، نماز میں کندھے پر بھی بِٹھا لیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری کی ایک اور حدیث حضرت ابو قتاوہ انصاریؓ سے اِس طرح مروی ہے ’’ایک دفعہ نبی کریمؐ باہر سے تشریف لائے ،تو اُمامہ بنتِ ابوالعاصؓ (جو بچّی تھیں) آپؐ کے شانۂ مبارک پر تشریف فرما تھیں، پھر آپؐ نے نماز پڑھی۔ جب آپؐ رکوع کرتے، تو اُنہیں اُتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے، تو پھر اُٹھا لیتے۔
(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث5996)
حضرت ابو قتاوہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ، حضرت اُمامہؓ کو (بعض اوقات) نماز پڑھتے وقت بھی اُٹھائے ہوتے تھے۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ ’’سجدے میں جاتے تو اُتار دیتے اور جب قیام فرماتے، تو دوبارہ اُٹھا لیتے‘‘۔
(صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، حدیث516
اِس حدیث میں آنحضرتؐ کی اس کمال شفقت کا بیان ہے، جو آپؐ نے اُمامہؓ سے فرمائی۔ نیز، یہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے بچّوں سے محبّت کا ایک پیغام بھی ہے۔
مختصر تعارف
اُمامہ کے معنی سیادت، قیادت اور آگے بڑھنے کے ہیں۔ حضرت اُمامہؓ، رسول اللہؐ کی سب سے بڑی صاحب زادی، سیّدہ زینبؓ اور حضرت ابوالعاصؓ کی بی تھیں۔ آپؓ، حضور نبی کریمؐ اور اُمّ المومنین، حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی نواسی تھیں۔ آپؓ کے والد، حضرت ابوالعاصؓ کی والدہ، یعنی آپؓ کی دادی، حضرت ہالہؓ، حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی سگی بہن تھیں۔
رسول اللہؐ کی صاحب زادیاں، سیّدہ رقیہؓ، سیّدہ اُمّ ِ کلثومؓ اور سیّدہ فاطمۃ الزہرہؓ آپؓ کی خالائیں تھیں۔والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے: حضرت اُمامہؓ بنتِ حضرت زینبؓ بنتِ حضرت محمّدﷺبن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف بن قصیٰ۔
والد کی طرف سے نسب یوں ہے۔ حضرت اُمامہؓ بنتِ حضرت ابوالعاصؓ بن ربیع بن عبدالعزیٰ بن عبدشمس بن عبدالمناف بن قصیٰ ۔
حضرت اُمامہؓ سے محبّت کے دو واقعاتطبقات ابنِ سعد کے مصنّف، علّامہ ابو عبداللہ محمّد بن سعد البصری نے اپنی کتاب میں حضرت اُمامہؓ سے آنحضرتؐ کی محبّت کے دو واقعات تحریر کیے ہیں۔
پہلا واقعہ علی بن زید سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ اپنے اہلِ خانہ کے پاس تشریف لائے، تو آپؐ کے ہاتھ میں ایک بیش قیمت پتھروں کا ہار تھا۔ آپؐ نے فرمایا’’ مَیں یہ ہار اُسے دوں گا، جو مجھے تم سب مَیں سب سے زیادہ پیاری ہے۔‘‘ اہلِ خانہ نے کہا کہ ’’آپؐ یہ ہار عائشہ بنتِ ابی بکرؓ کو دیں گے‘‘، لیکن آپؐ نے اپنی نواسی، حضرت اُمامہ بنتِ ابو العاصؓ کو بلوایا اور اپنے دستِ مبارک سے وہ ہار اُنھیں پہنا دیا۔اُس وقت اُمامہؓ کی آنکھ میں کچھ تھا، جسے آپؐ نے اپنے دستِ مبارک سے صاف فرمایا”۔
دوسرا واقعہ اُمّ المومنین، سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ’’ ایک مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے رسول اللہؐ کی خدمت میں کچھ زیورات بھیجے، جن میں سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی۔ آپؐ نے وہ انگوٹھی اپنی نواسی، حضرت اُمامہؓ بنتِ زینبؓ کو بھجوا دی اور فرمایا کہ ’’اے میری بچّی! اسے پہن لو”۔
(طبقات ابنِ سعد جلد ہشتم، صفحہ386 اردو)
آنحضرتؐ کا بچّوں سے پیار و محبّت صرف نواسی یا نواسوں تک محدود نہ تھا، بلکہ آپؐ عام بچّوں سے بھی اسی طرح محبّت و شفقت فرمایا کرتے تھے۔ اُنہیں سلام کرتے، گود میں بِٹھاتے، پیار کرتے، اُن کے ساتھ مختلف کھیل کھیلتے، اُنھیں کھانے کی چیزیں، جیسے کھجور وغیرہ عنایت فرماتے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہؐ اپنے نواسے حضرت حسنؓ کو چوم رہے تھے۔ اُس وقت ایک صحابی بھی آپؐ کے پاس بیٹھے تھے،جو تعجب سے بولے،’’ یارسول اللہﷺ! میرے دس بیٹے ہیں، مَیں نے تو آج تک کسی کو نہیں چوما۔‘‘ آپؐ نے فرمایا،’’ جو رحم نہیں کرتا، اُس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ (صحیح بخاری حدیث5997)۔
نکاح
حضرت علیؓ سے نکاح رسول اللہؐ کی رحلت کے وقت حضرت اُمامہؓ سنِ شعور کو پہنچ چُکی تھیں۔ آنحضرتؐ کی تربیتِ خاص کی بدولت فرماں برداری، قناعت، سنجیدگی، بُردباری، تدبّر، حکمت و معاملہ فہمی میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔ چھوٹی سی عُمر میں ماں کی ممتا سے محروم ہوگئی تھیں، چناں چہ صبرو شُکر، تسلیم و رضا اور توکّل علی اللہ مزاج کا حصّہ تھے۔ یہی وہ خوبیاں تھیں، جن کی وجہ سے سیّدہ فاطمۃ الزہرؓہ نے اپنی وفات سے پہلے حضرت علیؓ کو وصیّت فرمائی کہ’’ میری وفات کے بعد میری بھانجی، اُمامہ بنتِ زینبؓ سے نکاح کرلینا۔‘‘ نبی کریمﷺ کی رحلت کے چھے ماہ بعد حضرت فاطمہؓ بھی جنّت کو سدھار گئیں، تو حضرت علیؓ نے سیّدہ فاطمہؓ کی وصیّت پر عمل کرتے ہوئے حضرت اُمامہ ؓکے گھر نکاح کا پیغام بھجوایا۔ پیغام کی قبولیت کے بعد رسول اللہؐ کی پھوپھی، حضرت صفیہؓ کے بیٹے، حواریٔ رسولؐ اور ’’عشرہ مبشرہ‘‘ میں شامل صحابی، حضرت زبیر بن عوامؓ کی سرپرستی میں نکاح کی تقریب ہوئی۔
حضرت ابو العاصؓ نے وفات سے قبل اپنے ماموں زاد، حضرت زبیر بن عوامؓ کو اپنی صاحب زادی، حضرت اُمامہؓ کا سرپرست مقرّر فرمایا تھا۔ حضرت اُمامہؓ کے یہاں حضرت علیؓ سےایک صاحب زادے، محمّد الاوسط پیدا ہوئے۔ (شرح مشکوۃ المصابیح، جلد8 ، صفحہ619) ۔
تاہم، طبقات ابن ِسعد میں محمّد بن عُمرؓ سے مروی ہے کہ’’ حضرت فاطمہؓ بنتِ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے حضرت اُمامہ بنتِ ابو العاصؓ سے نکاح کیا تھا، مگر اُن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔‘‘ ( جِلد8، صفحہ386)۔
حضرت علیؓ کی وصیّت19؍رمضان المبارک 40؍ہجری کی ایک اداس صبح تھی۔ اہلِ کوفہ سحری سے فارغ ہوکر نمازِ فجر کی تیاری کررہے تھے۔ چوتھے خلیفۂ راشد، امیرالمومنین، سیّدنا علی المرتضیٰؓ حسبِ معمول نمازِ فجر کی امامت کے لیے مسجد میں تشریف لا چُکے تھے کہ اچانک ایک خارجی، عبدالرحمٰن بن ملجم نے زہر سے بُجھی تلوار سے آپؓ پر وار کردیا، جس سے آپؓ شدید زخمی ہوگئے۔ دو دن تک اِسی طرح زخمی حالت میں رہے، جب جانبری کی کوئی امید باقی نہ رہی، تو آپؐ نے حضرت مغیرہ بن نوفلؓ کو طلب فرمایا، جو جناب عبدالمطلب کے پڑپوتے تھے اور اُنہیں وصیّت کی کہ’’ میرے بعد تم امامہؓ سے نکاح کرلینا”۔ 21؍رمضان المبارک 40؍ہجری کو حضرت علی المرتضیٰؓ نے شہادت پائی۔
حضرت اُمامہؓ 28؍سال تک حضرت علیؓ کے نکاح میں رہیں اور اپنی خالہ، حضرت فاطمہؓ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حضرت علیؓ کی خدمت و اطاعت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔حضرت مغیرہؓ سے نکاحمؤرخین لکھتے ہیں کہ سیّدنا علی المرتضیٰؓ کی شہادت کے بعد والیٔ شام، حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت اُمامہؓ کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا، لیکن حضرت علیؓ کے بڑے صاحب زادے، حضرت امام حسنؓ نے حضرت اُمامہؓ کی رضامندی سے اپنے والدِ محترم کی وصیّت پر عمل کرتے ہوئے اُن کا نکاح، حضرت مغیرہ بن نوفلؓ سے کر دیا۔ حضرت مغیرہؓ کے صلب سے ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام یحییٰ تھا۔ حضرت اُمامہؓ 26؍سال تک حضرت مغیرہ بن نوفلؓ کے نکاح میں رہیں۔وفاتحضرت اُمامہ بنتِ ابوالعاصؓ نے 66؍ہجری،بمطابق 686؍عیسوی میں مُلکِ شام میں وفات پائی۔