Dua Istikhara in Arabic دعاء الاستخارة كامل

استخارہ کا مطلب اللہ تعالیٰ سے کسی معاملے میں بہترین فیصلہ اور رہنمائی طلب کرنا ہے۔ جب کوئی مسلمان اپنی دینی یا دنیاوی زندگی کے کسی اہم فیصلے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہو، تو اسے اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے لیے استخارہ کرنا چاہیے۔ یہ ایک مسنون عمل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو سکھایا۔

استخارہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فرض نمازوں کے علاوہ دو رکعت نفل نماز ادا کی جائے۔ ان رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے بعد قرآنِ مجید میں سے جو آسانی سے یاد ہو، اس کی تلاوت کی جائے۔ نماز مکمل کرنے کے بعد اخلاص اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعاۓ استخارہ (دعاء الاستخارة) مانگی جائے، تاکہ وہ اپنے فضل و کرم سے بندے کے لیے بہترین راستہ آسان فرما دے اور اس کے حق میں خیر کا فیصلہ کرے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے۔

دعاء الاستخارة كامل کے الفاظ

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ (وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ) خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي -أَوْ قَالَ: عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ- فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي -أَوْ قَالَ: عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ- فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ. وما ندم من استخار الخالق، وشاور المخلوقين المؤمنين وتثبَّت في أمره۔ (البخاری)

ترجمہ
اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور تیرے بڑے فضل کا تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ بے شک تجھے قدرت ہے، اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے. اے اللہ! اگر تیرے علم میں میرے لیے یہ کام (پھر اپنے کام کا نام لے جیسا کہ نیچے بیان کیا ہے) میری دنیاوآخرت میں بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرما، اور آسان فرما، پھر میرے لیے اس میں برکت فرما، اور اگر تیرے علم میں میرے لیے یہ کام میری دنیاوآخرت میں شر(اور بُرا) ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھ کو اس سے دُور فرما۔ اور میرے لیے خیر مقدر فرما، جہاں کہیں بھی ہو پھر مجھے اس پر راضی فرما دے۔

قال الله سبحانه وتعالى: وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ

يقول: هذا الأمر، زواجي بفلانة، أو سفري إلى محل كذا، أو شراء كذا، أو ما أشبه ذلك، يعين حاجته

ویسمی حاجتہ پر پہنچ کر اپنا حاجت بیان کریں یہ عربی کے الفاظ جو اوپر دیےکے ہیں اگر یہ نہ اے ہو تو اپنی زبان میں بولے۔

جو خالق سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، اہل ایمان سے مشورہ کرتا ہے اور اپنے فیصلے پر یقین رکھتا ہے تو اسے پشیمانی نہیں ہوگی۔

گھر میں داخل ہونے کی دعا

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ ہمیں ہر کام نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ امین

Similar Posts