مؤمن دوست بنانے میں کثرت سے کام لو
انسان کی زندگی میں دوستوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ تنہا رہنا تو ممکن ہی نہیں، ہمیں ایسے لوگ دوست بننے چاہیے جو ہر حال میں ہمارا ساتھ دیں۔ لیکن ہر دوست اچھا نہیں ہوتا۔ بری صحبت انسان کو گمراہ کر دیتی ہے، جبکہ اچھی دوستی زندگی کو سنوار دیتی ہے۔
ہر انسان کے لئے دوست بنانا واقعی اہم ہے، مئومن دوست دنیا اور آخرت دونوں میں فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایسے دوست اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نیک کام کرتے ہیں اور دوسروں کی بھلائی چاہتے ہیں۔ وہ کبھی برائی کی طرف نہیں لے جاتے، بلکہ ہمیشہ اچھے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسلام نیک صحبت کی بہت تاکید ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ یعنی دوست کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اگر دوست نیک ہوں تو انسان بھی نیکی کی طرف جھک جاتا ہے، ورنہ برائیوں میں پھنس سکتا ہے۔ یہ حدیث کردار پر گہرا اثر بتاتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ علیہ فرمانے ہے جب اہل جنت جنت میں پہنچیں گے تو وہاں کچھ لوگ (جو دنیاں میں اس کے دوست تھے) غائب پائنگے اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک کام کرتے تھے نماز روزے وغیرہ۔ تو وہ رب العزت سے ان کے بارے میں پوچھیں گے کہ
اے ہمارے رب جل جلالہ! ہمارے بھائی جودنیاں میں ہمارے ساتھ تھے اب کیوں نظر نہیں آتے۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا “کہ جاؤ اور آگ سے انہیں نکال لو جن کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو”۔ یہ بات سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مؤمن دوست بنانے میں کثرت سے کام لو اور زیادہ سے زیادہ مومن دوست بناؤ کیونکہ قیامت کے دن وہ شفاعت کریں گے تمہارے لیے۔ وفا دار دوست تو وہی ہے جو جنت تک ساتھ دے جائے تمہیں۔
جب کوئی نیک دوستوں کی صحبت میں رہتا ہے تو اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ عبادات میں دلچسپی بڑھتی ہے، اخلاق ٹھیک ہوتے ہیں، اور اللہ کا خوف دل میں آ جاتا ہے۔ یہ سب کچھ آہستہ آہستہ ہوتا ہے، لیکن اثر ضرور پڑتا ہے۔
آپس کی معاملات صاف ستھرا رکھیئے
ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں اگر تم مجھے جنت میں نہ پاؤ تو میرے بارے میں پوچھنا اللہ سے اور کہنا کہ اے رب تیرا بندہ تو ہمیں تیری یاد دلاتا تھا ابن جوزی۔ وہ یہ کہتے ہوئے رو پڑے۔ اللہ کی رحمت ان پر نازل ہو۔ یہ سب باتیں مل کر یہ احساس دلاتی ہیں کہ دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے شاید۔ کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ کیا واقعی ایسا ہوگا یا یہ بس حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔
یاد رہے کہ مؤمن دوست سچا ہوتا ہے، مخلص ہوتا ہے۔ دھوکہ نہیں دیتا، ہمیشہ دوسروں کی بھلائی چاہتا ہے۔ اگر دوست غلطی کرے تو نرمی سے سمجھاتا ہے، صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ یہی تو حقیقی دوستی ہے جو انسان کو بہتر بناتی ہے۔مشکل وقت میں بھی ایسا دوست ساتھ نہیں چھوڑتا۔ پریشانی ہو تو حوصلہ دیتا ہے، صبر کی تلقین کرتا ہے۔ دعا کرتا ہے، اور مدد بھی کرتا ہے۔ ایسے میں وہ ایک سہارا بن جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، مؤمن دوست نیک کاموں کی طرف بھی راغب کرتے ہیں۔ نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ کی ترغیب دیتے ہیں۔ جب دوست مل کر نیکی کی بات کریں تو معاشرہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ خیر کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں، اور یہ سب کچھ مثبت اثرات پیدا کرتا ہے۔
آج کل کے دور میں تو فتنے بہت ہیں، برائیاں زیادہ ہیں۔ نوجوان اکثر غلط دوستوں کی وجہ سے برے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر شروع سے ہی نیک دوست منتخب کریں تو بہت سی برائیوں سے بچ جائیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دوستوں کا انتخاب احتیاط سے کرنا چاہیے، ایسے جو اللہ کے قریب لے جائیں۔
اے میرے عزیز مسلمان بھائیوں کیا آپ بھی مجھے وہاں یاد رکھیں گے؟؟
اگر اپ بھی مجھے جنت میں اپنے درمیان نہ دیکھوں تو میرے بارے میں بھی ضرور اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔