میں نے درخت سے شفقت سیکھی
زندگی میں انسان کو مختلف چیزوں سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کبھی کتابیں پڑھ کر، کبھی اپنے تجربات سے، اور کبھی تو بس قدرت کو دیکھ کر۔ درخت تو ایک ایسی چیز ہے جو مجھے ہمیشہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ سایہ دیتے ہیں، پھل دیتے ہیں، اور ہوا کو صاف بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ، وہ ہمیں شفقت اور مہربانی جیسے بڑے سبق بھی سکھاتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ درخت واقعی ایک خاموش استاد کی طرح ہے، جو بغیر بولے سب کچھ بتا دیتا ہے۔
آپس کی معاملات صاف ستھرا رکھیئے
کافر کو بھی دھوکہ دینا گناہ ہے
درخت کی زندگی دیکھیں تو اس میں ایثار کی خوبصورت مثال ہے۔ وہ اپنی پوری عمر دوسروں کے لیے گزارتا ہے۔ انسان آ کر بیٹھ جائے تو سایہ، پرندے آئیں تو پناہ، اور پھل بھی سب کے لیے۔ بدلے میں کچھ نہیں مانگتا۔ یہ بات کچھ خاص لگتی ہے، کیونکہ ہم تو اکثر لینے کی سوچتے ہیں۔ درخت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دینا ہی اصل خوشی ہے، لینا نہیں۔
ایک اور چیز، درخت سب کے ساتھ برابر سلوک کرتا ہے۔ امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا، سب کو ایک جیسا سایہ۔ تھکا مسافر بیٹھے تو ٹھنڈک دے، پرندے گھونسلا بنائیں تو تحفظ۔ یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمیں بھی تو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ہر انسان کے ساتھ ہمدردی، محبت کا رویہ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر سب ایسا کریں تو معاشرہ کیسا ہو جائے گا۔
درخت صبر کا درس بھی دیتا ہے۔ گرمی برداشت کرے، سردی سہے، بارش ہو یا طوفان، کبھی شکایت نہیں۔ حتیٰ کہ شاخیں کاٹی جائیں، پتے توڑے جائیں، تب بھی خاموش رہتا ہے اور کام کرتا رہتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی مشکلات کا سامنا بھی ایسے ہی کرنا چاہیے، صبر سے، حوصلے سے۔
بوڑھا ہو جائے تو بھی اس کی لکڑی کام آتی ہے۔ فرنیچر، گھر، سب کچھ۔ آخری لمحے تک فائدہ مند۔ یہ قربانی کی مثال ہے، ایثار کی۔ ہمیں بھی تو کبھی کبھی سوچنا چاہیے کہ اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
درخت صلہ رحمی کا درس دیتا ہے پتھر مارو تو پھول اور میوے برساتا ہے
معاشرے میں امن چاہیے تو درخت کی طرح بننا پڑے گا۔ دوسروں کی مدد، نرمی سے بات، ضرورت مندوں کی دیکھ بھال۔ ایک مہربان آدمی تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
اور ماحول کی بات کریں تو درخت لگانا ضروری ہے۔ وہ زمین کو خوبصورت بناتے ہیں، فضا صاف رکھتے ہیں، آنے والی نسلوں کے لیے بہتر جگہ چھوڑتے ہیں۔ ہر ایک کو چاہیے کہ درخت لگائے، اور جو ہیں ان کی حفاظت کرے۔ یہ ذمہ داری ہے ہماری۔
درخت سے واقعی بہت کچھ سیکھا ہے میں نے۔ محبت، صبر، صلہ رحمہ، شفقت، سب۔ اگر ہم اپنائیں تو معاشرہ پرامن ہو سکتا ہے، خوشحال۔ بس کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ سب آسان نہیں، لیکن کوشش تو کرنی پڑے گی۔