ُحضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ

(Hazrat Bilal Bin Rabah) حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ عہدِنبوی کے بعد

رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کاواقعہ یقینابہت ہی اندوہناک سانحہ تھا،جس کی وجہ سے تمام مدینہ شہرمیں ہرجانب رنج والم کی فضاء چھائی ہوئی تھی …ہرکوئی غم کے سمندر میں ڈوباہواتھا…یہی کیفیت حضرت بلال بن رباح ؓ کی بھی تھی …اسی کا یہ اثرتھاکہ رسول اللہ ﷺ کے بعداب انہوں نے مسجدِنبوی میں اذان دینے کاوہ سلسلہ ترک کردیا…کیونکہ دورانِ اذان جب وہ ’’ أشْہَُدأنّ مُحَمّداً رَسُولُ اللّہ‘‘پرپہنچتے توبہت اداس ہوجاتے،آوازگلوگیرہوجاتی…اورتب ان کیلئے اذان مکمل کرنابہت دشوار ہو جاتا۔
رسول اللہ ﷺ کے بعداب مدینہ میں بلال بن رباح ؓ کادل بھی نہیں لگتاتھا،یہی وجہ تھی کہ آخرانہوں نے یہ فیصلہ کیاکہ ملکِ شام میں جواسلامی فوج رومیوں کے خلاف برسرِ پیکارہے ٗ میں بھی وہاں چلاجاؤں ،اوراب اپنی باقی زندگی ان سپاہیوں کے شانہ بشانہ بس اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطروقف کردوں
چنانچہ اس بارے میں حضرت بلال ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اور خلیفۂ وقت حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے اجازت چاہی،جس پرحضرت ابوبکرؓنے اصرارکیاکہ:’’بلال!آپ ہمیں چھوڑکرمت جائیے‘‘لیکن بلالؓ جانے پر مُصر تھے، دونوں طرف سے اصرارکایہ سلسلہ چلتارہا…آخرحضرت بلال ؓنے حضرت ابوبکرصدیقؓ کو مخاطب کرتے ہوئے یوں کہا’’اگرآپ اس وجہ سے مجھے جانے کی اجازت نہیں دے رہے کہ آپ نے مجھے مکہ میں اُمیہ سے خریدکرآزادکیاتھا…اوراپنے اسی احسان کی وجہ سے آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی بات مانوں …تب ٹھیک ہے ،میں حاضرہوں … اور اگر آپ نے مجھے محض اللہ کی رضاکی خاطرآزادکیاتھا…تومیری آپ سے گذارش ہے کہ آپ مجھے مت روکئے ، مجھے جانے کی اجازت دے دیجئے‘‘
حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے جب بلالؓ کی زبانی یہ بات سنی… توانہیں مدینہ سے ملکِ شام چلے جانے کی اجازت دے دی۔
٭چنانچہ حضرت بلال بن رباح ؓ مدینہ منورہ سے ملکِ شام منتقل ہوگئے، اوروہاں اسلامی لشکرمیں شامل ہوکراللہ کے دین کی سربلندی کی خاطرجدوجہدمیں مشغول ومنہمک ہوگئے۔
جس طرح رسول اللہ ﷺ کے مبارک دورمیں انہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا،اسی طرح اب ملکِ شام میں بھی سبھی لوگ دل وجان سے ان کی عزت کیاکرتے تھے، لیکن بلالؓ ہمیشہ یہی کہاکرتے : اِنّمَا أنَا عَبدٌ حَبَشِيٌّ ، اِبنُ أَمَۃٍ سَوْدَاء … یعنی’’میں تومحض ایک حبشی غلام ہوں ،ایک سیاہ فام کنیزکابیٹا…‘‘
دراصل یہ تومحض حضرت بلال ؓ کی طرف سے تواضع اورعجزوانکسارتھا…ورنہ حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام میں چہروں کی سفیدی یاسیاہی کی توکوئی حیثیت نہیں ہے،بلکہ اصل چیزتودلوں کی سفیدی یاسیاہی ہے…بالفاظِ دیگراصل اعتباراعمال کی سفیدی یاسیاہی کا ہے…جبکہ چہروں کی سفیدی یاسیاہی دینِ اسلام میں قطعاًکوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
٭شب وروزکایہ سفرجاری رہا…خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے انتقال کے بعدخلیفۂ دوم کی حیثیت سے حضرت عمربن خطاب ؓ نے ذمہ داریاں سنبھالیں ،تب اسلامی فتوحات کاسلسلہ بہت زیادہ وسعت اختیارکرگیا،گویامشرق ومغرب میں فتوحات کاایسا طاقتورسیلاب تھاجس کے آگے بندباندھناکسی کے بس کی بات نہیں تھی…
انہی دنو ں ۱۷ھ؁ میں سپہ سالارِاعلیٰ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی زیرِقیادت فتحِ بیت المقدس کاانتہائی یادگاراورتاریخی واقعہ پیش آیا،اس موقع پرمسلمانوں اور رومیوں کے مابین ایک معاہدے کے مطابق اب بیت المقدس شہرکی چابی مسلمانوں کے حوالے کی جانی تھی،اس موقع پررومیوں کے بادشاہ نے یہ شرط رکھی کہ’’ اس مقصدکیلئے مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمرؓ خود بیت المقدس آئیں ،ہم چابی فقط انہی کے حوالے کریں گے …کسی اورکوہم یہ چابی نہیں دے سکتے‘‘
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ نے بذریعۂ مکتوب حضرت عمربن خطاب ؓ کواس صورتِ حال سے مطلع کیا، تب ان کایہ خط موصول ہونے پرمدینہ میں حضرت عمربن خطاب ؓ نے اکابرصحابۂ کرام سے اس بارے میں مشاورت کی ۔
اس موقع پربعض حضرات نے مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ’’آپ کووہاں نہیں جاناچاہئے، کیونکہ رومیوں نے ہم مسلمانوں کومحض تنگ کرنے کی خاطرنفسیاتی حربے کے طورپریہ شرط رکھی ہے کہ مسلمانوں کے خلیفہ خودبیت المقدس آئیں …حقیقت تویہ ہے کہ رومی جب ہم سے شکست کھاچکے ہیں ٗتوکیاوہ اس بات کونہیں جانتے کہ شہرکی چابی تو ہم ویسے بھی ان سے چھین سکتے ہیں کہ جب ہم یہ شہرہی فتح کرچکے ہیں تواب چابی کی کیا حیثیت ہے…؟‘‘
جبکہ اس موقع پرحضرت علی بن ابی طالب ؓ نے یہ مشورہ دیاکہ’’آپ کووہاں ضرورجاناچاہئے ،کیونکہ اس طرح جذبۂ خیرسگالی بڑھے گا اوررومیوں کے ساتھ ہمارے آئندہ تعلقات پرخوشگواراثرات مرتب ہوں گے‘‘
تب حضرت عمربن خطاب ؓ نے حضرت علیؓ کے مشورے کوپسندکرتے ہوئے بیت المقدس جانے کافیصلہ کرلیا…اورپھرمدینہ میں حضرت علیؓ کواپنانائب مقررکرنے کے بعد وہاں سے بیت المقدس کی جانب محوِسفر ہوگئے۔
طویل سفرطے کرنے کے بعدحضرت عمرؓجب بیت المقدس پہنچے تووہاں اسلامی فوج کے سپہ سالارِاعلیٰ حضرت ابوعبیدہ عامربن الجراح ٗ نیزدیگرکبارِصحابہ ٗ اہم شخصیات اورمختلف سپہ سالاروں سے ملاقات ہوئی ،مثلاً معاذبن جبل ٗ خالدبن ولید ٗ یزیدبن ابی سفیان ٗ شرحبیل بن حسنہ ٗ وغیرہ ٗ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اس موقع پر حضرت عمربن خطاب ؓ کی نگاہیں دائیں بائیں کسی کوتلاش کرتی رہیں ، کسی نے استفسارکیاکہ ’’اے امیرالمؤمنین!کیاآپ کوکسی کی تلاش ہے؟‘‘حضرت عمرؓ نے جواب دیا’’ہاں …بلال کہاں ہیں ؟‘‘ اورپھرحضرت بلالؓ بھی وہاں پہنچے ، ملاقات ہوئی۔ اس کے بعدجب نمازکاوقت ہواتوسب نے اصرارکیاکہ’’آج بلال اذان دیں ‘‘لیکن حضرت بلالؓ نے معذرت کردی۔آخرخلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب ؓ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’اے بلال!فتحِ مکہ کے یادگاراورعظیم الشان موقع پررسول اللہ ﷺ نے دس ہزارافرادپرمشتمل لشکرمیں سے صرف آپ کواذان کیلئے منتخب فرمایاتھا…وہ یادگارترین موقع تھا…اورآج یہ فتحِ بیت المقدس کاواقعہ بھی یادگارترین موقع ہے…لہٰذاہم سب کی یہی خواہش ہے کہ آج بھی آپ ہی اذان دیں …تب حضرت بلال ؓ آمادہ ہوگئے،اوراذان دی…حضرت عمربن خطاب ؓ ٗ ودیگراکابرصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جواس موقع پروہاں موجودتھے،آج سالہا سال کے بعدجب انہوں نے حضرت بلالؓ کی پُرسوزاوردل نشیں آوازمیں ’’اذان‘‘سنی ٗ توانہیں رسول اللہ ﷺ کامبارک زمانہ یادآگیا…اورتب وہ سبھی آبدیدہ ہوگئے۔
شب وروزاورصبح وشام کایہ سفرجاری رہا…حضرت بلال بن رباح ؓ بدستور ملکِ شام میں ہی مقیم رہے،اللہ کے دین کی سربلندی کے جذبے سے سرشار…مسلسل اسلامی فوج میں خدمات انجام دیتے رہے…آخر ۲۰ھ؁ میں وہیں دمشق میں مختصرعلالت کے بعداس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے اوراپنے اللہ سے جاملے…
یوں وہ آوازہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی کہ جب ابتدائے اسلام میں ’’اَحد،اَحد‘‘کانعرہ اسی آوازمیں بلندہواکرتاتھاتومکہ شہرمیں بڑے بڑے ظالم وجابراورمغرورومتکبرسردارانِ قریش کے دلوں پرلرزہ طاری ہوجایاکرتاتھا،اورجب رسول اللہ ﷺ کے مبارک دورمیں مدینہ میں یہی آوازاذان کی صورت میں بلندہوتی اورمدینہ کی مبارک فضاؤں میں گونجتی تواہلِ ایمان کے دلوں کوگرمادیاکرتی تھی،فتحِ مکہ کے یادگارموقع پربھی یہی آوازاذان بن کرفضاء میں بلندہوئی تھی…اورپھرفتحِ بیت المقدس کے یادگارموقع پربھی یہی آوازاذان بن کرفضاء میں گونجی تھی…یہ مبارک آواز…اب ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی تھی۔
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے اس جلیل القدرصحابی حضرت بلال بن رباح ؓ کے درجات جنت الفردوس میں بلندفرمائیں ، نیزہمیں وہاں اپنے حبیب ﷺ ٗنیزتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت سے نوازیں ۔

Similar Posts