قدرت کے انوکھے شاہکار اور ہم

،دو شیزا مریم علیہا السلام بچہ جن دیتی ہیں
،بوڑھی عورت اماں “ہاجرہ” حاملہ ہوجاتی ہیں
،بانچ پن کا شکارحضرت زکریا علیہ السلام کی زوجہ کی گود ہری ہوجاتی ہے
،شیر خوار بچہ (عیسی علیہ السلام) باتیں کرنے لگتا ہے
،چاند دو ٹکڑے ہو جاتا ہے
تین سو سال تک سوتے رہنے والے اصحابِ کہف، اور ایک سو سال تک محوِ استراحت رہنے والے حضرت عزیر علیہ السلام جاگ جاتے ہیں اور اپنی آنکھوں میں سالوں بعد کے نقش اتارتے ہیں۔

طالوت کے تھوڑے سپاہی جالوت کے بڑے لشکر پر اور بدر کے “تین سو تیرا” سر بکف مجاہدین اسلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، کفر و شرک کے ہزار سرغنوں پر غلبہ پا لیتے ہیں
،ملکہ بلقیس کا عرش، پلک جھپکنے میں “یمن” سے “شام” پہنچ جاتا ہے
،مچھلی کا پیٹ یونس علیہ السلام کو ہضم نہیں کرتا
،آگ، ابراہیم علیہ السلام کو جلا ہی نہیں سکتی

سچ ہے کہ اللہ کو آسمان و زمین میں سے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی اور وہ جب کسی کو وجود دینا چاہتا ہے تو صرف کلمہ “کن” ہی کہتا ہے اور وہ چیز مِنَصَّۂ شُہود پر رونق افروز ہوجاتی ہے۔
اس کے “کلمۂ کُن” اور قُدرتِ کاملہ سے ہر ناممکن کام،ممکن کا روپ دھار لیتا ہے۔
اس خالق کریم کے حضور میرے چھوٹے چھوٹے مسائل کیوں نہیں حل ہوسکتے؟ میں قعرِ مایوسی میں کیوں گرجاتا ہوں؟
بس شرط صرف یہ ہے کہ مریمؑ جیسا “تقوی”، بی بی ہاجرا جیسی “دعا”، زوجہ زکریاؑ جیسی “امید”، حضرت عزیر علیہ السلام جیسا “شوق”، اصحابِ کہف جیسا “ایمان”، سلیمان علیہ السلام جیسا “عدل”، حضرت یونس علیہ السلام جیسا “صبر”، حضرت ابراہیمؑ جیسا “دل”، صاحبانِ طالوت جیسا “جذبہ” اور بدری صحابہ جیسی استقامت چاہیے یا کم از کم ان اولو العزم شخصیات کے کسی درجے میں نقشِ قدم پر چلنا ہی نصیب ہو جائے تو پھر !دیکھیے

کسیے بگڑی بنتی ہے؟ کیسے قسمت سنورتی ہے اور کیسے تقدیر چکمتی ہے؟؟۔

✍️: شکیل أحمد ظفر

Similar Posts