Kalma Tayyaba ki Fazilat کلمہ طیبہ کی فضیلت احادیث میں

اسلامی عقائد کو سمجنے کے لیے اسلام کے چھ کلمو کا سمجھنا ضروری ہے اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ پر قائم ہے۔ یہی وہ مقدس کلمہ ہے جس کے ذریعے انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے۔ کلمہ طیبہ “لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدُ رَّسُولَ اللَّه” دراصل ایمان کی جڑ اور دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اس کلمہ کے ذریعے بندہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ وحدہٗ لاشریک ہے) اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔

قرآن و حدیث میں کلمہ طیبہ کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کلمہ کو سب سے افضل ذکر، جنت کی کنجی اور ایمان کی اصل قرار دیا ہے۔

کلمہ طیبہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں۔

کلمہ طیبہ یہ ہے۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدُ رَّسُولَ اللَّه

ترجمہ
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے (سچے اور اخری) رسول ہیں۔

بنیادی طور پر یہ کلمہ دو عقائد پر مشتمل ہیں
توحید – یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل ایمان۔
رسالت – حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور نبوت پر ایمان۔

جب کوئی شخص اس کلمہ کو سچے دل سے قبول کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت کا عہد کرکے اسلام میں داخل ہوتا ہے۔
اس لئے کلمہ طیبہ کی فضیلت کومندرجہ ذیل احادیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے تاکہ ہم اس عظیم کلمہ کی اہمیت کو جان سکے اور اس کے روحانی فوائد کا بہتر اندازہ ہو سکے۔

حدیث نمر1

قَالَ : سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ ، قَالَ : غَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَنْ يُوَافِيَ عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ۔

ترجمہ۔
انہوں نے بیان کیا کہ عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا، پھر بنی سالم کے ایک صاحب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا “کوئی بندہ جب قیامت کے دن اس حالت میں پیش ہو گا کہ اس نے کلمہ “لا إله إلا الله” کا اقرار کیا ہو گا اور اس سے اس کا مقصود اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو گی تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس پر حرم کر دے گا”۔  [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6423]

حدیث نمبر2

عَن جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَفْضَلُ الذِّكْرِ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ۔ [سنن الترمذي: 3383]

ترجمہ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا
“سب سے افضل ذکر “لا الہ الا اللہ” اور سب سے افضل دعا “الحمد للہ” ہے۔”

حدیث نمبر3

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” جَدِّدُوا إِيمَانَكُم”، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا؟ قَالَ:” أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ”۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8710]

ترجمہ۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کرسکتے ہیں؟ اپﷺ نے فرمایا: لا الہ الا اللہ کی کثرت کیا کرو۔

حدیث نمبر4

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ نَفَعَتْهُ يَوْمًا مِنْ دَهْرِهِ وَلَوْ بَعْدَ مَا يُصِيبُهُ الْعَذَابُ”۔[معجم صغير للطبراني/كتاب الإيمان/حدیث: 24]

ترجمہ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه” کہا تو زمانے میں کسی دن اس کو ضرور فائدہ دے گا، اگرچہ اسے عذاب کے پہنچنے کے بعد ہی کیوں نہ دے”۔

حدیث نمبر5

 عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ،‏‏‏‏ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبِ مُوقِنٍ،‏‏‏‏ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهَا۔

ترجمہ۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موت اس گواہی پر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا۔[سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3796]

حدیث نمبر6

قال رسول الله ﷺ”مَن قَالَ لَا إلٰهَ إلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الجَنَّة”۔

ترجمہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “جو شخص لا الہ الا اللہ کہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا”۔

یہ حدیث اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کلمہ طیبہ جنت میں داخلے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ لیکن اس کلمہ کا فائدہ اسی وقت ہوگا جب انسان اس کے تقاضوں پر عمل کرے اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارے۔۔

حدیث نمبر7

قال رسول الله ﷺ “ما قال عبدٌ لا إله إلا الله قط مخلصًا إلا فُتحت له أبواب السماء”۔

ترجمہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو بندہ اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہتا ہے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔”

قیامت کے دن انسان کے تمام اعمال تولے جائیں گے۔ اس دن کلمہ طیبہ کا وزن بہت زیادہ ہوگا۔

یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ پڑھا گیا کلمہ طیبہ اللہ کے ہاں بہت زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے اور یہ بندے کے لیے مغفرت اور رحمت کا سبب بنتا ہے۔

حدیث نمبر8

قال رسول الله ﷺ “إن الله حرّم على النار من قال لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله”۔

ترجمہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر جہنم کی آگ حرام کر دی ہے جو اللہ کی رضا کے لیے لا الہ الا اللہ کہے”۔

حدیث نمبر9

قال رسول الله ﷺ “أحب الكلام إلى الله أربع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر”۔

ترجمہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کلمات چار ہیں: سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر”۔

ایک مسلمان کی پوری زندگی کلمہ طیبہ کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب انسان اپنی زندگی کو اس کلمہ کے مطابق گزارنے لگتا ہے تو اس کی زندگی میں برکت، سکون، اطمنان، اور ہدایت پیدا ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کلمہ طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ امین

Similar Posts